الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي التَّعَرُّدِ وَصِيغِهِ وَفَضْلِهِ باب: تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَالْہَرَمِ، وَالْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ (اے اللہ! بیشک میں تیری پناہ میں آتا ہوں، سستی سے، انتہائی بڑھاپے سے، چٹی سے اور گناہ سے، اور میں تیری پناہ پکڑتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے، میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں عذاب ِ قبر سے اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں آگ کے عذاب سے)۔