الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي التَّعَرُّدِ وَصِيغِهِ وَفَضْلِهِ باب: تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5683
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ غَلَبَۃِ الدَّیْنِ، وَغَلَبَۃِ الْعَدُوِّ، وَشَمَاتَۃِ الْأَعْدَائِ۔ (اے اللہ! بیشک میں تیری پناہ میں آتا ہوں، قرض کے غلبہ سے، دشمن کے غلبہ سے اور دشمنوں کی خوشی سے)۔
وضاحت:
فوائد: … دشمنوں کی خوشی سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کی کسی مصیبت کو دیکھ کر دشمن خوش ہوں۔