الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي التَّعَرُّدِ وَصِيغِهِ وَفَضْلِهِ باب: تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5682
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الشَّيْطَانِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ قَالَ وَهَمْزُهُ الْمَوْتَةُ وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ وَنَفْخُهُ الْكِبْرِيَاءُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شیطان کے ہَمْز، نَفْث اور نَفْخ سے پناہ طلب کیا کرتے تھے، ہَمْز سے مراد اس کا جنون ہے، نَفْث سے مراد اس کا شعر ہے اور نَفْخ سے مراد اس کا تکبر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نَفْث کے لفظی معانی تھوک کی معمولی مقدار کے ساتھ پھونک مارنے کے ہیں، گویا کہ اشعار بھی شیطان کے پھونک مارنے یعنی وسوسہ ڈالنے کا نتیجہ ہیں۔ مراد وہ اشعار ہیں، جو شریعت کے مطابق قابل مذمت ہوں۔