الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي التَّعَرُّدِ وَصِيغِهِ وَفَضْلِهِ باب: تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِهَؤُلَاءِ الْخَمْسِ وَيُخْبِرُ بِهِنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔ سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ ان پانچ کلمات کا حکم دیتے تھے اور بتاتے تھے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سے مروی ہیں، وہ کلمات یہ ہیں: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ أُرَدَّ إِلٰی أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔ (اے اللہ! بیشک میں تیری پناہ میں آتا ہوں بخیلی سے، بزدلی سے، میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس چیز سے کہ مجھے ادھیڑ عمر میں لوٹا دیا جائے، میں تجھ سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں دنیا کے فتنے سے اور تجھ سے پناہ مانگتا ہوں عذاب ِ قبر سے)۔