حدیث نمبر: 5680
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي قَالَ إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ لَكَ وَإِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذَاكَ فَهُوَ خَيْرٌ فَقَالَ ادْعُهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوءَهُ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ فَتَقْضَى لِي اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے عافیت عطا فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہتا ہے تو میں دعا کر دیتا ہوں اور اگر تو چاہتا ہے تو میں اس کو مؤخر کر دیتا ہوں، اس میں تیرے لیے بہتری ہو گی۔ اس نے کہا: جی آپ دعا کر دیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کوحکم دیا کہ وہ اچھے انداز میں وضو کرے، پھر دو رکعت ادا کرے اور یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ … … اَللّٰھُمَّ شَفِّعْہُ فِیَّ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی محمد، جو کہ رحمت والے نبی ہیں، کے ذریعے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد! میں اپنی حاجت کو پورا کرنے کے لیے آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، پس (اے اللہ! تو میری حاجت پوری کر دے، اے اللہ! میرے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش قبول فرما)۔

وضاحت:
فوائد: … وسیلہ کا معنی ومفہوم: لغوی طور پر وسیلہ سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کے ذریعے کسی ذات تک رسائی یا قرب حاصل کیا جا سکتا ہو۔ لغت عرب کی قدیم اور معروف کتاب الصحاح میں ہے:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5680
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17372»