الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ دُعَاءِ الأَعْمَى الَّذِي تَوَسَّلَ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم في رد بصره باب: اس نابینا آدمی کی دعا، جس نے اپنی بینائی حاصل کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ دیا تھا
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي قَالَ إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ لَكَ وَإِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذَاكَ فَهُوَ خَيْرٌ فَقَالَ ادْعُهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوءَهُ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ فَتَقْضَى لِي اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ۔ سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے عافیت عطا فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہتا ہے تو میں دعا کر دیتا ہوں اور اگر تو چاہتا ہے تو میں اس کو مؤخر کر دیتا ہوں، اس میں تیرے لیے بہتری ہو گی۔ اس نے کہا: جی آپ دعا کر دیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کوحکم دیا کہ وہ اچھے انداز میں وضو کرے، پھر دو رکعت ادا کرے اور یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ … … اَللّٰھُمَّ شَفِّعْہُ فِیَّ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی محمد، جو کہ رحمت والے نبی ہیں، کے ذریعے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد! میں اپنی حاجت کو پورا کرنے کے لیے آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، پس (اے اللہ! تو میری حاجت پوری کر دے، اے اللہ! میرے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش قبول فرما)۔