الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ ادْعِيَةٍ جَامِعَةٍ كَانَ يُعَلِّمُهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْضَ أَصْحَابِهِ باب: ان جامع دعاؤں کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعض صحابہ کو جن کی تعلیم دیا کرتے تھے
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا كَنَزَ النَّاسُ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ فَاكْنِزُوا هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ وَأَسْأَلُكَ حُسْنَ عِبَادَتِكَ وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا وَأَسْأَلُكَ لِسَانًا صَادِقًا وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ۔ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ سونے اور چاندی کو جمع کرنا شروع کریں گے تو تم ان کلمات کو جمع کرنا شروع کر دینا: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الثَّبَاتَ فِی الْأَمْرِ، وَالْعَزِیمَۃَ عَلَی الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ حُسْنَ عِبَادَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ قَلْبًا سَلِیمًا، وَأَسْأَلُکَ لِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّکَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے دین میں ثابت قدمی اور استقامت کا اور رشد و ہدایت پر مضبوطی سے قائم رہنے کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے تیری نعمت کا شکر ادا کرنے کا اور تیری عبادت کے حسن کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے سالم دل اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں، جو تو جانتا ہے اور ہر اس شرّ سے تیری پناہ میں آتا ہوں، جس کو تو جانتا ہے، اور تجھ سے ہر اس گناہ کی بخشش چاہتا ہوں، جس کو تو جانتا ہے، بیشک تو غیبوں کو جاننے والا ہے)۔