حدیث نمبر: 5668
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ سَمِعْتُ مُتَكَلِّمًا يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ وَلَكَ الْمُلْكُ كُلُّهُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ كُلُّهُ إِلَيْكَ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ عَلَانِيَتُهُ وَسِرُّهُ فَأَهْلٌ أَنْ تُحْمَدَ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَمِيعَ مَا مَضَى مِنْ ذَنْبِي وَاعْصِمْنِي فِيمَا بَقِيَ مِنْ عُمْرِي وَارْزُقْنِي عَمَلًا زَاكِيًا تَرْضَى بِهِ عَنِّي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ مَلَكٌ أَتَاكَ يُعَلِّمُكَ تَحْمِيدَ رَبِّكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں نماز پڑھا رہا تھا کہ نماز کے بیچ میں ایک آدمی کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کُلُّہُ، وَلَکَ الْمُلْکُ کُلُّہُ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ کُلُّہُ، إِلَیْکَ یُرْجَعُ الْأَمْرُ کُلُّہُ، عَلَانِیَتُہُ وَسِرُّہُ، فَأَہْلٌ أَنْ تُحْمَدَ، إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍٔ قَدِیرٌ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی جَمِیعَ مَا مَضٰی مِنْ ذَنْبِیْ، وَاعْصِمْنِی فِیمَا بَقِیَ مِنْ عُمْرِی، وَارْزُقْنِی عَمَلًا زَاکِیًا تَرْضٰی بِہِ عَنِّیْ۔ (اے اللہ! ساری تعریف تیرے لیے ہے، سارا بادشاہت تیرے لے ہے، ساری بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے، ساری معاملہ تیری طرف لوٹایا جائے گا، وہ علانیہ ہو یا مخفی، تو اس لائق ہے کہ تیری تعریف کی جائے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! میں جو گناہ کر چکا ہوں، تو ان سب کو بخش دے اور بقیہ عمر میں میری حفاظت فرما اور مجھے ایسا مبارک اور مقبول عمل کرنے کی توفیق دے کہ جس کے ذریعے تو مجھ سے راضی ہو جائے)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دعا اور آواز کے بارے میں فرمایا: یہ فرشتہ تھا، جو تجھے تیرے ربّ کی حمد بیان کرنے کی تعلیم دینے آیا تھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5668
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن حذيفة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23747»