الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ ادْعِيَةٍ جَامِعَةٍ كَانَ يُعَلِّمُهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْضَ أَصْحَابِهِ باب: ان جامع دعاؤں کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعض صحابہ کو جن کی تعلیم دیا کرتے تھے
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ثُمَّ أَتَاهُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَإِنَّكَ إِذَا أُعْطِيتَهُمَا فِي الدُّنْيَا ثُمَّ أُعْطِيتَهُمَا فِي الْآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے ربّ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا۔ پھر وہی آدمی دوسرے دن آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے ربّ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا۔ پھر وہی آدمی تیسرے دن آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے ربّ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا، اگر یہ دونوں چیزیں تجھے دنیا میں عطا کر دی گئیں اور پھر آخرت میں بھی دے دی گئیں تو تو کامیاب ہو جائے گا۔