حدیث نمبر: 5665
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ثُمَّ أَتَاهُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَإِنَّكَ إِذَا أُعْطِيتَهُمَا فِي الدُّنْيَا ثُمَّ أُعْطِيتَهُمَا فِي الْآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے ربّ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا۔ پھر وہی آدمی دوسرے دن آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے ربّ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا۔ پھر وہی آدمی تیسرے دن آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے ربّ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا، اگر یہ دونوں چیزیں تجھے دنیا میں عطا کر دی گئیں اور پھر آخرت میں بھی دے دی گئیں تو تو کامیاب ہو جائے گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5665
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3848، والترمذي: 3512، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12291 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12316»