حدیث نمبر: 5664
عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ لَمْ يُعْطَوْا فِي الدُّنْيَا خَيْرًا مِنَ الْيَقِينِ وَالْمُعَافَاةِ فَسَلُوهُمَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا: رسول للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! لوگوں کو دنیا میں ایمانِ کامل اور عافیت سے بہتر کوئی چیز عطا نہیںکی گئی، لہذا تم اللہ تعالیٰ سے ان دونوں چیزوں کا سوال کیا کرو۔

وضاحت:
فوائد: … اس وقت دنیا والے جن جن چیزوں کو بہتر اور خیر والا سمجھ چکے ہیں اور ان کے لیے کوشاں بھی ہیں، وہ سب کچھ فنا ہونے والا اور ہاتھ سے نکل جانے والا ہے، اگر بقا ہے تو وہ ایمانِ کامل اور عملِ صالح کو ہے۔ بلاشک و شبہ دنیا کے لیے محنت کرنی چاہیے، لیکن دین کے تقاضوں سے غفلت برتنا، یہ دکھ بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کی ہر متوقع اور غیر متوقع نعمت کے بغیر گزارا کیا جا سکتاہے، لیکن اگر گزارا نہیں تو وہ کامل ایمان اور نیک عمل کے بغیر نہیں ہے، کیونکہ آخرت کا انحصار اِن دو چیزوں پر ہے، اگر کوئی آخرت میںپھنس گیا تو دنیا کی نعمتیں کس کام آئیں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5664
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 38 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 38»