الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ ادْعِيَةٍ جَامِعَةٍ كَانَ يُعَلِّمُهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْضَ أَصْحَابِهِ باب: ان جامع دعاؤں کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعض صحابہ کو جن کی تعلیم دیا کرتے تھے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ أَبِيهِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا عَمُّكَ كَبِرَتْ سِنِّي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي فَعَلِّمْنِي شَيْئًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ قَالَ يَا عَبَّاسُ أَنْتَ عَمِّي وَلَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَلَكِنْ سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُ عِنْدَ قَرْنِ الْحَوْلِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے باپ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کا چچا ہوں، اب میں عمر رسیدہ ہو گیا ہوں اور میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے، لہذا آپ مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیں کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عباس! تم میرے چچے تو ہو، لیکن میں تم کو اللہ تعالیٰ سے کفایت نہیں کر سکتا، البتہ تم اپنے ربّ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کیا کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار یہ بات دوہرائی، پھر جب وہ سال کے آخر میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر یہی بات کی۔