حدیث نمبر: 5662
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ أَبِيهِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا عَمُّكَ كَبِرَتْ سِنِّي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي فَعَلِّمْنِي شَيْئًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ قَالَ يَا عَبَّاسُ أَنْتَ عَمِّي وَلَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَلَكِنْ سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُ عِنْدَ قَرْنِ الْحَوْلِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے باپ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کا چچا ہوں، اب میں عمر رسیدہ ہو گیا ہوں اور میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے، لہذا آپ مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیں کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عباس! تم میرے چچے تو ہو، لیکن میں تم کو اللہ تعالیٰ سے کفایت نہیں کر سکتا، البتہ تم اپنے ربّ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کیا کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار یہ بات دوہرائی، پھر جب وہ سال کے آخر میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر یہی بات کی۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عباس رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا تھے، لیکن آخرت کے معاملے میں اتنا مقدس رشتہ بھی کسی کام نہیں آئے گا، وہاں معاملہ ذاتی نیکیوں اور برائیوں کا ہو گا۔ معافی سے مراد گناہوں کا معاف ہو جانا ہے اور عافیت سے مراد بیماریوں، آزمائشوں اور ضعف ِ ایمان سے سلامتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5662
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1766»