الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ ادْعِيَةٍ جَامِعَةٍ كَانَ يُعَلِّمُهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْضَ أَصْحَابِهِ باب: ان جامع دعاؤں کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعض صحابہ کو جن کی تعلیم دیا کرتے تھے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى سَلْمَانَ الْخَيْرَ قَالَ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُرِيدُ أَنْ يَمْنَحَكَ كَلِمَاتٍ تَسْأَلُهُنَّ الرَّحْمَنَ تَرْغَبُ إِلَيْهِ فِيهِنَّ وَتَدْعُو بِهِنَّ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ صِحَّةَ إِيمَانٍ وَإِيمَانًا فِي خُلُقٍ حَسَنٍ وَنَجَاحًا يَتْبَعُهُ فَلَاحٌ يَعْنِي وَرَحْمَةً مِنْكَ وَعَافِيَةً وَمَغْفِرَةً مِنْكَ وَرِضْوَانًا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سلمان خیر رضی اللہ عنہ کو یہ نصیحت فرمائی: بیشک اللہ کا نبی تجھے چند کلمات عطا کرنا چاہتا ہے، تو ان کے ذریعے رحمن سے سوال کرے گا، ان کے ذریعے اس کی طرف رغبت کا اظہار کرے گا اور رات اور دن کو ان کا ورد کرے گا، کہہ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ صِحَّۃَ إِیمَانٍ وَإِیمَانًا فِی خُلُقٍ حَسَنٍ،وَنَجَاحًا یَتْبَعُہُ فَلَاحٌ یَعْنِی وَرَحْمَۃً مِنْکَ وَعَافِیَۃً وَمَغْفِرَۃً مِنْکَ وَرِضْوَانًا۔ (اے اللہ! میں تجھ سے کمالِ ایمان کا، حسن اخلاق والے ایمان کا اور کامیابی والا مقصد پورا ہونے کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے رحمت، عافیت، بخشش اور رضامندی کا سوال کرتا ہوں)۔