الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
وَمِنْهَا يَا مُقَلبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ باب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک دعا یہ تھی: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ
حدیث نمبر: 5659
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سُمِّيَ الْقَلْبُ مِنْ تَقَلُّبِهِ إِنَّمَا مَثَلُ الْقَلْبِ كَمَثَلِ رِيشَةٍ مُعَلَّقَةٍ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ تُقَلِّبُهَا الرِّيحُ ظَهْرًا لِبَطْنٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (عربی میں دل کو) قَلْب اس لیے کہتے ہیں کہ یہ الٹ پلٹ ہوتا رہتا ہے، دل کی مثال درخت کے تنے کے ساتھ لٹکے ہوئے پر کی مانند ہے، جس کو ہوا سیدھا اور الٹا کرتی رہتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … امام البانی نے سنن ابن ماجہ میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے، لیکن اس کے الفاظ یہ ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَثَلُ الْقَلْبِ مَثَلُ الرِّیشَۃِ تُقَلِّبُہَا الرِّیَاحُ بِفَلَاۃٍ۔)) … دل کی مثال اس پر کی طرح ہے، جس کو ہوائیں کسی بیابان میں الٹ پلٹ کر رہی ہوں۔