الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي الْأَدْعِيَةِ كَانَ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم باب: ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھا کرتے تھے
عَنْهُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَإِلَیْکَ أَنَبْتُ، وَبِکَ خَاصَمْتُ، أَعُوذُ بِعِزَّتِکَ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْ تُضِلَّنِی، أَنْتَ الْحَیُّ الَّذِی لَا تَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ یَمُوتُونَ (اے اللہ! میں تیرے لیے مطیع ہوا، تیرے ساتھ ایمان لایا، تجھ پر توکل کیا، تیری طرف رجوع کیا، تیرے ذریعے جھگڑا کیا، تیری عزت کی پناہ میں آتا ہوں، جبکہ تو ہی معبودِ برحق ہے، اس بات سے کہ تو مجھے گمراہ کر دے، تو وہ زندہ ہے کہ جس کو موت نہیں آئے گی، جبکہ جن ااور انسان مر جائیں گے)۔