الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي الْأَدْعِيَةِ كَانَ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم باب: ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھا کرتے تھے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَإِسْرَافِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَإِسْرَافِی، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ (اے اللہ!میرے لیے بخش دے ان گناہوں کو، جو میں نے پہلے کیے، جو بعد میں کروں گا، جو مخفی طور پر کیے، جو ظاہری طور پر کیے، جو میں نے حد سے تجاوز کیا اور جن گناہوں کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو آگے کرنے والا ہے اور تو پیچھے کرنے والا ہے اور نہیں کوئی معبودِ برحق مگر تو ہی)۔