الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
باب دعوات يُسْتَجَابُ بِهَا الدُّعَاءُ مِنْهَا دَعْوَةُ ذِي النون، وَالدُّعَاءُ بِيَاذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ باب: ان دعاؤں کا بیان کہ جن کے ذریعے دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان میں سے مچھلی والے کی دعا اور یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ کی دعاہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ فَقَالَ قَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِ اللَّهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ۔ سیدنا عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو یہ کلمات ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنِّی … … وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ۔ (اے اللہ! میں تجھ کو یہ واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک تو وہ اللہ ہے کہ جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، تو یکتا و یگانہ اور بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنم دیا گیا اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق اس نے اللہ تعالیٰ کو ایسے اسم اعظم کے واسطے سے پکارا ہے کہ جب اس سے اس کے ذریعے سوال کیا جاتا ہے تو وہ عطا کرتا ہے اور جب اس کو پکارا جاتا ہے تو وہ قبول کرتا ہے۔