حدیث نمبر: 5625
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي عَيَّاشٍ زَيْدِ بْنِ صَامِتٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يُصَلِّي وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ يَا مَنَّانُ يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابو عیاش زید بن صامت زرقی رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ نماز ادا کر رہے تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ … یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ! (اے اللہ! میں تجھ سے اس وجہ سے سوال کرتا ہوں کہ تیرے لیے تعریف ہے، تو ہی معبودِ برحق ہے، اے احسان کرنے والے! اے آسمانوں اور زمین کے مُوجِد! اے جلال و اکرام والے!) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے اللہ تعالیٰ کو ایسے اسمِ اعظم کے ساتھ پکارا کہ جب اس کے واسطے سے اس کو پکارا جائے تو وہ قبول کرتا ہے اور جب اس سے سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5625
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الحاكم: 1/ 504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13798 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13834»