الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ النَّهْي عَنْ قَوْلِ الدَّاعِيِّ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ وَعَنْ اسْتِبْطَاءِ الإِجَابَةِ وَكَرَاهَة السَّجَع فِی الدُّعَاءِ باب: اس چیز کے منع ہونے کا بیان کہ دعا کرنے والا یوں دعا کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے ، اسی طرح قبولیت کو مؤخر سمجھنا منع ہے اور دعا میں قافیہ بندی کی کراہت کا بیان
عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لِابْنِ أَبِي السَّائِبِ قَاصِّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ثَلَاثًا لَتُبَايِعَنِّي عَلَيْهِنَّ أَوْ لَأُنَاجِزَنَّكَ فَقَالَ مَا هُنَّ بَلْ أَنَا أُبَايِعُكِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ اجْتَنِبِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَاءِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً فَقَالَتْ إِنِّي عَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَاكَ وَقُصَّ عَلَى النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً فَإِنْ أَبَيْتَ فَثِنْتَيْنِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَثَلَاثًا فَلَا تُمِلَّ النَّاسَ هَذَا الْكِتَابَ وَلَا أُلْفِيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِهِمْ فَتَقْطَعُ عَلَيْهِمْ حَدِيثَهُمْ وَلَكِنِ اتْرُكْهُمْ فَإِذَا جَرَّءُوكَ عَلَيْهِ وَأَمَرُوكَ بِهِ فَحَدِّثْهُمْ۔ امام شعبی سے مروی ہے، سیدہ عائشہ نے اہل مدینہ کے واعظ ابن ابی سائب سے کہا: تین چیزوںکو یاد رکھ، تو ان پر ضرور ضرور میری بیعت کرے گا، یا میں تجھ سے جھگڑوں گی، اس نے کہا: اے ام المؤمنین! وہ کون سی چیزیں ہیں، میں بالکل آپ کی بیعت کروں گا، سیدہ نے کہا: (۱) دعا میں قافیہ بندی سے اجتناب کر، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام ایسا نہیں کرتے تھے۔ اسماعیل راوی کے الفاظ یہ ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کو ایسا کرتے ہوئے نہیں پایا، (۲) ہفتہ میں ایک بار لوگوں کو وعظ کرو، اگر تم انکار کرو تو دو بار کر دو، اگر تم یہ بات بھی نہ مانو تو تین بار کر دو، لیکن لوگوں کو اس کتاب سے اکتا نہ دینا، اور (۳) میں تجھے اس طرح کرتے ہوئے نہ پاؤں کہ تو کچھ لوگوں کے پاس جائے، جبکہ وہ اپنی گفتگو میں مصروف ہوں اور تو ان کی بات کو کاٹ دے، بلکہ تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دے، ہاں اگر وہ تجھ سے مطالبہ کریں اور تجھے حکم دیں تو تب ان سے گفتگو کر۔