الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ النَّهْي عَنْ قَوْلِ الدَّاعِيِّ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ وَعَنْ اسْتِبْطَاءِ الإِجَابَةِ وَكَرَاهَة السَّجَع فِی الدُّعَاءِ باب: اس چیز کے منع ہونے کا بیان کہ دعا کرنے والا یوں دعا کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے ، اسی طرح قبولیت کو مؤخر سمجھنا منع ہے اور دعا میں قافیہ بندی کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 5614
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يُعَجِّلْ فَيَقُولَ قَدْ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے، جب تک وہ جلدی نہ کرے، جلدی کرنے کی صورت یہ ہے کہ وہ یہ کہنا شروع کر دے کہ میں نے اپنے ربّ سے دعا کی، لیکن اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔
وضاحت:
فوائد: … بندے کا کام ہے کہ امید اور یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مانگتا رہے، یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ جلدی قبول کرے یا بدیر اور یہ بھی ممکن ہے کہ بندے کی اس التجاء کو پورا نہ کرے لیکن اس کے عوض اس کو کوئی اورخیر عطا کر دے۔