الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ النَّهْي عَنْ قَوْلِ الدَّاعِيِّ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ وَعَنْ اسْتِبْطَاءِ الإِجَابَةِ وَكَرَاهَة السَّجَع فِی الدُّعَاءِ باب: اس چیز کے منع ہونے کا بیان کہ دعا کرنے والا یوں دعا کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے ، اسی طرح قبولیت کو مؤخر سمجھنا منع ہے اور دعا میں قافیہ بندی کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 5613
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ الْعَبْدُ بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَسْتَعْجِلُ قَالَ يَقُولُ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ خیر و بھلائی کے ساتھ رہتا ہے، جبکہ تک جلدی نہ کرے۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ جلدی کیسے کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے اپنے ربّ سے دعا کی، لیکن اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔