الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ تَأْكِيدِ حُضُور القلب في الدُّعَاءِ واستحباب تعمِيمِهِ بِالدُّعَاءِ وَالْبَدْءِ بِنَفْسِهِ باب: دعاء میں حضورِ قلب کی تاکید، عام دعا اور اپنی ذات سے آغاز کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَتْ تَحْتَهُ أُمُّ الدَّرْدَاءِ فَأَتَاهُمْ فَوَجَدَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ فَقَالَتْ لَهُ أَتُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ فَقَالَ نَعَمْ قَالَتْ فَادْعُ لَنَا بِخَيْرٍ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِنَّ دَعْوَةَ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَةٌ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ بِهِ كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ قَالَ فَخَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ۔ سیدنا صفوان بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ، جن کی بیوی سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا تھیں، ابو زبیر کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا، لیکن سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کو گھر پایا، انھوں نے مجھ سے پوچھا: کیا تو اس سال حج کرنا چاہتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: تو پھر ہمارے لیے بھی خیر و بھلائی کی دعا کرنا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی اپنے بھائی کے حق میں اس کی عدم موجودگی میں کی گئی دعا مقبول ہوتی ہے، ایسی صورت میں اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر کیا جاتا ہے، جب بھی وہ اپنے بھائی کے لے خیر و بھلائی کی دعا کرتا ہے تو وہ فرشتہ آمین کہہ کر کہتا ہے: اور تجھے بھی ایسی ہی (خیر وبھلائی) نصیب ہو۔ جب میں بازار کی طرف نکلا تو سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہو گئی، انھوں نے بھی مجھے اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی۔