حدیث نمبر: 5609
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَتْ تَحْتَهُ أُمُّ الدَّرْدَاءِ فَأَتَاهُمْ فَوَجَدَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ فَقَالَتْ لَهُ أَتُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ فَقَالَ نَعَمْ قَالَتْ فَادْعُ لَنَا بِخَيْرٍ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِنَّ دَعْوَةَ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَةٌ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ بِهِ كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ قَالَ فَخَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا صفوان بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ، جن کی بیوی سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا تھیں، ابو زبیر کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا، لیکن سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کو گھر پایا، انھوں نے مجھ سے پوچھا: کیا تو اس سال حج کرنا چاہتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: تو پھر ہمارے لیے بھی خیر و بھلائی کی دعا کرنا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی اپنے بھائی کے حق میں اس کی عدم موجودگی میں کی گئی دعا مقبول ہوتی ہے، ایسی صورت میں اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر کیا جاتا ہے، جب بھی وہ اپنے بھائی کے لے خیر و بھلائی کی دعا کرتا ہے تو وہ فرشتہ آمین کہہ کر کہتا ہے: اور تجھے بھی ایسی ہی (خیر وبھلائی) نصیب ہو۔ جب میں بازار کی طرف نکلا تو سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہو گئی، انھوں نے بھی مجھے اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی۔

وضاحت:
فوائد: … دوسرے مسلمان بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے لیے دعائے خیر کرنا افضل عمل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5609
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2732، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28110»