الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ تَأْكِيدِ حُضُور القلب في الدُّعَاءِ واستحباب تعمِيمِهِ بِالدُّعَاءِ وَالْبَدْءِ بِنَفْسِهِ باب: دعاء میں حضورِ قلب کی تاکید، عام دعا اور اپنی ذات سے آغاز کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 5606
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَجُلًا قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ وَحْدَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ حَجَبْتَهَا عَنْ نَاسٍ كَثِيرِينَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ایک آدمی نے یوں دعا کی: اے اللہ! صرف مجھے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو بخش، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے تو اس کو بہت زیادہ لوگوں سے روک دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے، بلکہ کائنات کی ہر چیز سے وسیع ہے۔ مطلوب یہ ہے کہ انسان اپنے لیے اور اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے دعا کرے اور کسی کے حق میں بد دعا نہ کرے۔