الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
باب استِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَرَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ وَمَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ وَمَسْحِ الْوَجْهِ بِالْيَدَيْنِ عِنْدَ الْفِرَاغِ مِنَ الدُّعَاءِ باب: دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونے کا، ہاتھ اٹھانے کا اور اس چیز کا کہ کس چیز سے دعا کو شروع¤کیا جائے، نیز دعا سے فراغت کے وقت ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5604
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَعَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَسَحَ وَجْهَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب دعا کرتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے اور پھر (آخر میں) ان کو اپنے چہرے پر پھیرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے بعد ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کی روایات ضعیف ہیں، ایک حدیث مذکورہ بالا ہے، جس کے ضعیف ہونے کی دو وجوہات ہیں: مزید روایات درج ذیل ہیں۔