الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
باب استِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَرَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ وَمَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ وَمَسْحِ الْوَجْهِ بِالْيَدَيْنِ عِنْدَ الْفِرَاغِ مِنَ الدُّعَاءِ باب: دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونے کا، ہاتھ اٹھانے کا اور اس چیز کا کہ کس چیز سے دعا کو شروع¤کیا جائے، نیز دعا سے فراغت کے وقت ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5602
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَاهِرًا يَدَيْهِ قَطُّ يَدْعُو عَلَى مِنْبَرٍ وَلَا غَيْرِهِ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَّا يَضَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَيُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِشَارَةًترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مبالغہ کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کی ہو، نہ منبر پر دیکھا اور نہ کسی اور موقع پر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح دعا کرتے تھے کہ اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر رکھ دیتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے۔
وضاحت:
فوائد: … اس سے سابق احادیث سے یہ امور ثابت ہو چکے ہیں۔ شہادت کے وقت انگلی اٹھانا مراد ہے۔