الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
باب استِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَرَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ وَمَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ وَمَسْحِ الْوَجْهِ بِالْيَدَيْنِ عِنْدَ الْفِرَاغِ مِنَ الدُّعَاءِ باب: دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونے کا، ہاتھ اٹھانے کا اور اس چیز کا کہ کس چیز سے دعا کو شروع¤کیا جائے، نیز دعا سے فراغت کے وقت ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5599
عَنْ قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً مِنَ الدُّعَاءِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی دعا میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے، ما سوائے بارش مانگنے کے، اس موقع پر تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر ہاتھوں کو بلند کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … بارش کی دعا کے علاوہ دیگر مقامات پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے، اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش کا سوال کرتے وقت جس مبالغہ کے ساتھ ہاتھ بلند کرتے تھے، باقی موقعوں پر اس طرح نہیں کرتے تھے۔