الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
باب استِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَرَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ وَمَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ وَمَسْحِ الْوَجْهِ بِالْيَدَيْنِ عِنْدَ الْفِرَاغِ مِنَ الدُّعَاءِ باب: دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونے کا، ہاتھ اٹھانے کا اور اس چیز کا کہ کس چیز سے دعا کو شروع¤کیا جائے، نیز دعا سے فراغت کے وقت ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5595
مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ طَارِقِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَاءَ مَكَانًا مِنْ دَارِ يَعْلَى نَسِيَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَدَعَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس فلاں جگہ پر آتے تو قبلہ رخ ہو کر دعا کرتے، عبید اللہ اس جگہ کو بھول گئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونا مستحب امر ہے، جیسا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حجۃ الوداع کے موقع پر)عرفہ میں موقف کے پاس آئے اور قبلہ رخ ہو کر غروبِ آفتاب تک دعا کرتے رہے۔ (صحیح مسلم: ۲۱۳۷)