حدیث نمبر: 5593
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْجَوَامِعُ مِنَ الدُّعَاءِ وَيَدَعُ مَا بَيْنَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جامع دعائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند تھیں، اس کی علاوہ باقی دعائیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھوڑ دیتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … جامع دعائیں وہ ہیں، جن میں دنیا و آخرت کی بھلائی جمع کر دی گئی ہو اور وہ نیک اغراض و مقاصد پر مشتمل ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول تمام دعائیں اپنے باب میں جامع ہیں، ان میں ایک اہم مثال یہ ہے: اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ (صحیح بخاری: ۴۵۲۲) (اے ہمارے ربّ! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا کر دے اور آخرت میں بھی اچھائی کر دینا اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچانا)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5593
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 1482، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26070»