الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ الْحَقِّ عَلَى الدُّعَاءِ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ و آدابِهِ وَأَنَّهُ يَنْفَعُ لَا مَحَالَةَ باب: دعا کرنے کی ترغیب، اس کی فضیلت، اس کے آداب اور اس چیز کا بیان¤کہ دعا لازمی طور پر فائدہ دے گی
حدیث نمبر: 5592
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَمَنَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَنْظُرْ مَا الَّذِي يَتَمَنَّى فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا الَّذِي يُكْتَبُ لَهُ مِنْ أُمْنِيَّتِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی آدمی تمنا کرنے لگے تو اس کو اپنی تمنا پر غور کر لینا چاہیے، کیونکہ وہ نہیں جانتا ہے کہ اس کی تمنا میں سے کون سی چیز اس کے لیے لکھ لی جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … انسان کو چاہیے کہ وہ جب بھی سوال کرے، خیر و بھلائی کا سوال کرے، کیونکہ بعض گھڑیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں جو دعا بھی کی جاتی ہے، اس کو قبول کر لیا جاتا ہے۔