الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ الْحَقِّ عَلَى الدُّعَاءِ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ و آدابِهِ وَأَنَّهُ يَنْفَعُ لَا مَحَالَةَ باب: دعا کرنے کی ترغیب، اس کی فضیلت، اس کے آداب اور اس چیز کا بیان¤کہ دعا لازمی طور پر فائدہ دے گی
حدیث نمبر: 5590
عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَسْتَحْيِي أَنْ يَبْسُطَ الْعَبْدُ إِلَيْهِ يَدَيْهِ يَسْأَلُهُ فِيهِمَا خَيْرًا فَيَرُدَّهُمَا خَائِبَتَيْنِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہا: جب بندہ اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے کے لیے اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ دراز کرتا ہے تو وہ اس سے شرماتا ہے کہ ان کو خالی واپس کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت یہاں تو موقوف ہے، لیکن یہ مرفوعاً بھی ثابت ہے، جیسا کہ ابن حبان (۸۸۰)، حاکم (۱/ ۵۳۵) اور معجم کبیر (۶۱۳۰) میں ہے۔ بندے کو چاہیے کہ وہ قبولیت کے اوقات میں کثرت سے دعا کرے، فرض نمازوں کے بعد اجتماعی دعا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔