الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ الْحَقِّ عَلَى الدُّعَاءِ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ و آدابِهِ وَأَنَّهُ يَنْفَعُ لَا مَحَالَةَ باب: دعا کرنے کی ترغیب، اس کی فضیلت، اس کے آداب اور اس چیز کا بیان¤کہ دعا لازمی طور پر فائدہ دے گی
حدیث نمبر: 5589
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْصِبُ وَجْهَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي مَسْأَلَةٍ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهَا إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَهَا لَهُ وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان کوئی سوال کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے چہرے کو گاڑھ لیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ہر صورت میں عطا کرتا ہے، یا تو جلدی دے دیتا ہے، یا اس کے لیے ذخیرہ کر لیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مطلب یہ ہوا کہ مسلمان کی دعا کے ضائع ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے۔