حدیث نمبر: 5585
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ تُعَجَّلَ لَهُ دَعْوَتُهُ وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا قَالُوا إِذًا نُكْثِرُ قَالَ اللَّهُ أَكْثَرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان ایسی دعا کرتا ہو، جس میں گناہ او رقطع رحمی والی بات نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو تین میں سے ایک چیز عطا کرتا ہے، یا اس کی دعا جلدی جلدی قبول کر لی جاتی ہے، یا اس کی دعا کو آخرت کے لیے ذخیرہ کر لیا جاتا ہے، یا اس کے بقدر اس آدمی سے بری چیز کو دور کر دیا جاتا ہے۔ صحابہ نے کہا: تو پھر ہم بہت زیادہ دعا کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ زیادہ عطا کرنے والا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ اللہ تعالیٰ کا قانون نہیں ہے کہ بندہ جو کچھ مانگ رہا ہے، اس کو وہی کچھ عطا کر دیا جائے، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ وہ کسی کا خالص عمل ضائع نہیں کرتا اور بدلہ ضرور دیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5585
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده جيّد، أخرجه البزار: 3144، وابن ابي شيبة: 10/ 201، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11150»