الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَاب مَا يُقَالُ يُطلب الْمَغْفِرَةِ وَوَقَاءِ الدِّينِ باب: بخشش طلب کرنے کی اور قرضہ ادا کرنے کی دعاؤں کا بیان
عَنْ أَبِي وَائِلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي عَجَزْتُ عَنْ مُكَاتَبَتِي فَأَعِنِّي فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلِ صِيرٍ دَنَانِيرَ لَأَدَّاهُ اللَّهُ عَنْكَ قُلْتُ بَلَى قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ۔ سیدنا ابو وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں اپنی مکاتَبت سے عاجز آ گیا ہوں، لہذا آپ میری مدد کرو، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تجھے ان کلمات کی تعلیم دوں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سکھائے تھے، اگر تجھ پر صیر پہاڑ کے بقدر دیناروں کا بھی قرض ہوا تو اللہ تعالیٰ تیری طرف سے ادا کر دے گا، اس نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: یہ دعا پڑھ: اَللّٰھُمَّ اکْفِنِی بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِی بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ (اے اللہ! تو مجھے کافی ہو جا، اپنے حلال کے ساتھ، اپنے حرام سے بچا کر اور اپنے فضل سے مجھے ان افراد سے غنی کر دے، جو تیرے علاوہ ہیں)۔