حدیث نمبر: 5579
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقَالَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ لَمَّا أَدْبَرَ حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ فَقَالَ مَا قُلْتَ قَالَ قُلْتُ حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَلُومُ عَلَى الْعَجْزِ وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْكَيْسِ فَإِذَا غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کیا، جس کے خلاف فیصلہ ہوا، جب وہ جانے لگا تو اس نے کہا: حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ(اللہ مجھے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے کیا ذکر کیا ہے؟ اس نے کہا: جی میں نے یہ کلمات ادا کیے ہیں: حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ سستی پر ملامت کرتا ہے، سب سے پہلے تجھے عقلمندی سے کام لینا چاہیے، پھر اگر کوئی معاملہ تجھ پر غالب آ جائے تو تو کہے: حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ۔

وضاحت:
فوائد: … مفہوم یہ ہے کہ انسان کو اپنے دنیوی و اخروی جائز مقاصد کی تکمیل کے لیے پوری کوشش کرنی چاہیے اور ممکنہ اسباب استعمال کرنے چاہئیں، پھر بھی اگر وہ مغلوب ہو جائے تو اس کو اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سمجھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5579
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف بقية بن الوليد، وجھالة سيف، أخرجه ابوداود: 3627، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23983 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24483»