الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ نُزُولِ الْمَطْرِ وَسِمَاعِ الرَّعْدِ وَالصَّوَاعِقِ وَرُويَةِ الهَلال باب: بارش کے نزول، گرج اور کڑک کو سنتے وقت اور چاند کو دیکھنے کی دعاؤں کا بیان
حدیث نمبر: 5565
عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بلال بن یحییٰ بن طلحہ بن عبید اللہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ہلال کو دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ أَہِلَّہُ عَلَیْنَا بِالْیُمْنِ وَالْإِیمَانِ، وَالسَّلَامَۃِ وَالْإِسْلَامِ، رَبِّی وَرَبُّکَ اللّٰہُ (اے اللہ! اس کو ہم پر طلوع کر، سعادت اور ایمان کے ساتھ اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ، (اے چاند) میرا اور تیراربّ اللہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پورے ماہ کے لیے سعادت، ایمان، سلامتی اور اسلام کے دوام کا سوال کیا ہے، کیونکہ ہر ماہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کی روشنی میں مختلف فیصلے کرنے ہوتے ہیں، کسی کے رزق میں کمی آتی ہے، کسی کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے، کسی پر آزمائشیں پڑتی ہیں، کسی کو خوشی کے اسباب ملتے ہیں، کوئی شرّ میں آگے نکل جاتا ہے، کسی کو خیر نصیب ہوتی ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پورے ماہ کے لیے امن و سلامتی کا سوال کیا۔