حدیث نمبر: 5564
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ وَالصَّوَاعِقَ قَالَ اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گرج اور کڑک کی آواز سنتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ، وَلَا تُہْلِکْنَا بِعَذَابِکَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ (اے اللہ! ہمیں اپنے غضب کی وجہ سے تباہ نہ کر اور ہمیں اپنے عذاب سے ہلاک نہ کر اور ہمیں اس سے پہلے عافیت دے دے)۔

وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ھُوَالَّذِیْ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّیُنْشِیُٔ السَّحَابَ الثِّقَالَ۔ وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِھَا مَنْ یَّشَآئُ} … وہی ہے جو تمھیں بجلی دکھاتا ہے، ڈرانے اور امید دلانے کے لیے اور بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔ اور (بادل کی) گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے۔ اور وہ کڑکنے والی بجلیاں بھیجتا ہے، پھر انھیں ڈال دیتا ہے جس پر چاہتا ہے۔ (سورۂ رعد: ۱۲، ۱۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5564
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة، ولجھالة حال ابي مطر، أخرجه الترمذي: 3450، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5763»