الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ نُزُولِ الْمَطْرِ وَسِمَاعِ الرَّعْدِ وَالصَّوَاعِقِ وَرُويَةِ الهَلال باب: بارش کے نزول، گرج اور کڑک کو سنتے وقت اور چاند کو دیکھنے کی دعاؤں کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى نَاشِئًا مِنْ أُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ تَرَكَ عَمَلَهُ وَإِنْ كَانَ فِي صَلَاتِهِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ فَإِنْ كَشَفَهُ اللَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَإِنْ مَطَرَتْ قَالَ اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمان کے کسی افق میں کوئی نامکمل سا بادل دیکھتے تو اپنے کام کو چھوڑ دیتے، اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں ہوتے، پھر یہ دعا پڑھنا شروع کر دیتے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیہِ (اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہے، اس شرّ سے، جو اس بادل میں ہے)۔ اگر اللہ تعالیٰ اس بادل کو زائل کر دیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے، اور اگر وہ بارش برساتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے: اے اللہ! نفع بخش بارش برسانا۔