الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ مَا يَقُولُ مَنِ اسْتَجَدَ ثَوْبًا باب: نیا کپڑا پہننے والے کی دعا
عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ عِمَامَةً أَوْ قَمِيصًا أَوْ رِدَاءً ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ أَسْأَلُكَ خَيْرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَمِنْ شَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نیا کپڑا پہنتے تو اس کا نام لیتے کہ پگڑی ہے، یا قمیص، یا چادر اور پھر یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ کَسَوْتَنِیہِ، أَسْأَلُکَ خَیْرَہُ وَخَیْرَ مَا صُنِعَ لَہُ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّہِ وَمِنْ شَرِّ مَا صُنِعَ لَہُ (اے اللہ! ساری تعریف تیرے لئے ہی ہے‘ تو نے مجھے یہ (کپڑا) پہنایا‘ (اب) میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس چیز کیلئے یہ بنایا گیا اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں‘ اور اس کی برائی اور جس چیز کیلئے یہ بنایا گیا اس کی برائی سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔)