حدیث نمبر: 5559
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ فِي سُوقٍ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ بِهَا أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَبَنَى لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناعمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھی: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق ، مگر اللہ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کے لیے ہے، تعریف اسی کے لیے ہے، اسی کے ہاتھ میں خیر ہے، وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے )، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھے گا، اس کی دس لاکھ برائیاں معاف کرے گا اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دے گا۔

وضاحت:
فوائد: … جامع ترمذی کی روایت میں اس دعا کے الفاظ یوں ہیں: لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ حَیٌّ لَا یَمُوتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ۔ سبحان اللہ! اتنا بڑا اجر و ثواب، در حقیقت اللہ تعالیٰ لامتناہی خزانوں کا مالک ہے اور اپنی مرضی کے مطابق تقسیم کرتا ہے، اجر و ثواب کی اس مقدار کی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ بازار ایسی جگہ ہے، جہاں لوگ تجارت، خرید و فروخت اور زیادہ منافع کے حصول اور خسارے سے بچاؤ کے حیلوں میںمصروف ہو کر اللہ تعالیٰ اور اس کے ذکر سے غافل ہو جاتے ہیں، نیز بازاروں کو سب سے برا خطۂ زمین قرار دیا گیا ہے، لیکن جو آدمی ان امور کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ذکر کو یاد رکھے گا، وہ بڑا اجرو ثواب پائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5559
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 2235، والترمذي: 3428، 3429، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 327 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 327»