الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ النَّوْمِ حَشِيَّةَ الْفَزَعَ فِيهِ وَالارْقِ وَالْوَحْشَةِ باب: ان دعاؤں کا بیان، جو نیند میں گھبراہٹ، بے خوابی اور وحشت کی صورت میں کی جائیںگی
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا كَلِمَاتٍ نَقُولُهُنَّ عِنْدَ النَّوْمِ مِنَ الْفَزَعِ بِسْمِ اللَّهِ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ قَالَ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُعَلِّمُهَا مَنْ بَلَغَ مِنْ وَلَدِهِ أَنْ يَقُولَهَا عِنْدَ نَوْمِهِ وَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ صَغِيرًا لَا يَعْقِلُ أَنْ يَحْفَظَهَا كَتَبَهَا لَهُ فَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نیند کے وقت گھبرا جانے کی صورت میں یہ کلمات پڑھنے کی تعلیم دیتے تھے: بِسْمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ … … وَأَنْ یَحْضُرُونِ(اللہ کے نام کے ساتھ، میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کی پناہ میں آتا ہے، اس کے غضب سے، اس کی سزا سے، اس کے بندوں کے شرّ سے، شیطانوں کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں)۔ سیدنا عبد اللہ عمرو رضی اللہ عنہ اپنے بالغ بچوںکو اس دعا کی تعلیم دیتے تھے، تاکہ وہ سوتے وقت اس کو پڑھیں اور جو بچے چھوٹے اور اس دعا کو یاد کرنے سے ناسمجھ ہوتے تھے، تو وہ اس دعا کو لکھ کر اس کی گردن میں لٹکا دیتے تھے۔