حدیث نمبر: 5543
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا شَكَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَثَرَ الْعَجِينِ فِي يَدَيْهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَأَتَتْهُ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَلَمْ تَجِدْهُ فَرَجَعَتْ قَالَ فَأَتَانَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا قَالَ فَذَهَبْتُ لِأَقُومَ فَقَالَ مَكَانَكُمَا فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ فَقَالَ أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا سَبَّحْتُمَا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَحَمِدْتُمَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبَّرْتُمَاهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا علی سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آٹا پیسنے کی وجہ سے ہاتھوں میں پڑ جانے والے نشانات کا شکوہ کیا، اُدھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قیدی آئے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک خادمہ کا مطالبہ کرنے کے لیے آئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر پر موجود نہیں تھے، اس لیے لوٹ گئیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آئے، جبکہ ہم لیٹ چکے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر اٹھنا چاہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی جگہ پر لیٹے رہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل بتا دوں، جو تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے ، جب تم سونے لگو، تو تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہ، تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور چونتیس بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہا کرو۔

وضاحت:
فوائد: … سنن ابو داود کی روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں کے درمیان آ کر بیٹھ گئے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی بیٹی اور داماد کے ساتھ بے تکلفی ہے، دراصل الفت سے تکلف ختم ہو جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5543
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3113، 5361، ومسلم: 2727، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 740 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 740»