الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
باب مَا يُقَالُ مِنَ الْأَذْكَارِ غَيْرِ الْقُرْآنِيَّةِ عِنْدَ النَّوْمِ باب: سونے سے پہلے والے غیر قرآنی اذکار کابیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْأَرْضِ، وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰی، مُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْإِنْجِیلِ وَالْقُرْآنِ، أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ ذِی شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ الظَّاہِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُونَکَ شَیْئٌ، اقْضِ عَنِّی الدَّیْنَ وَأَغْنِنِی مِنَ الْفَقْرِ(اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے ربّ! زمین کے ربّ! ہر چیز کے ربّ! دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے، تورات و انجیل اور قرآن کو نازل کرنے والے! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، اس شریر کے شرّسے کہ تو جس کی پیشانی پکڑنے والا ہے، تو اوّل ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں، تو آخِر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو ظاہر ہے، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں، تو باطن ہے، تجھ سے مخفی کوئی چیز نہیں، تو میرا قرض اتار دے اور مجھے فقر سے غنی کر دے)۔