حدیث نمبر: 5511
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي أَسْمَعُكَ تَدْعُو كُلَّ غَدَاةٍ اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ تُعِيدُهَا ثَلَاثًا حِينَ تُصْبِحُ وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي وَتَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ تُعِيدُهَا حِينَ تُصْبِحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي قَالَ نَعَمْ يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِنَّ فَأُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهِ قَالَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَوَاتُ الْمَكْرُوبِ اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عبد الرحمن بن ابو بکرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے کہا: اے ابا جان! میں آپ کو ہر صبح و شام کو تین تین بار یہ کلمات کہتے ہوئے سنتا ہوں: اَللّٰہُمَّ عَافِنِی فِی بَدَنِی اَللّٰہُمَّ عَافِنِی فِی سَمْعِی، اَللّٰہُمَّ عَافِنِی فِی بَصَرِی لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْت۔(اے اللہ! میرے بدن میں عافیت دے، اے اللہ! میرے کان میں عافیت دے، اے اللہ! میری آنکھ میں عافیت دے، تو ہی معبودِ برحق ہے) اور اسی طرح ہر صبح و شام کو میں سنتا ہوں کہ آپ تین تین بار یہ دعا پڑھتے ہیں: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ، اللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ۔ (اے اللہ! میں کفر اور فقر سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! میں عذاب ِ قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں، تو ہی معبودِ برحق ہے)۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے میرے پیارے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کلمات کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی اقتدا کرنا پسند کرتا ہوں، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے چین اور غم زدہ آدمی کی دعا یہ ہے: اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُو، فَلَا تَکِلْنِی إِلٰی نَفْسِی طَرْفَۃَ عَیْنٍ، أَصْلِحْ لِی شَأْنِی کُلَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ۔ (اے اللہ! میں صرف تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں، پس تو میری ذات کو پلک بھرکے لیے میرے سپرد نہ کر اور میرا سارا معاملہ سنوار دے، تو ہی معبودِ برحق ہے)۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5511
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «( حديث : اللهم عافني في بدني۔) حسن الإسناد ، و( حديث: دعوات المكروب۔) حسن، قاله الالباني۔ وھذا اسناد حسن في المتابعات والشواھد، جعفر بن ميمون ضعيف يعتبر به، أخرجه ابوداود: 5090، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20430 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20701»