حدیث نمبر: 5500
عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ وَعَلَى كَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ وَعَلَى دِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح اور شام کرتے تو یہ دعا پڑھتے: أَصْبَحْنَا عَلٰی فِطْرَۃِ الْإِسْلَامِ، وَعَلٰی کَلِمَۃِ الْإِخْلَاصِ، وَعَلَی دِینِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، وَعَلٰی مِلَّۃِ أَبِینَا إِبْرَاہِیمَ حَنِیفًا مُسْلِمًا، وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ۔ (ہم نے صبح کی ہے فطرتِ اسلام پر، کلمۂ اخلاص پر، اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین پر، اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر، جو یکسو مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہیں تھے)۔

وضاحت:
فوائد: … فطرت ِ اسلام سے مراد دینِ اسلام ہے، کلمۂ اخلاص سے مراد لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ہے۔ حنیف (یکسو) اس مسلمان کو کہتے ہیں جو تمام دوسرے ادیان سے بے رخی اختیار کر کے دینِ حق کی طرف مائل ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5500
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه النسائي في الكبري : 10175، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15363 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15437»