الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ مَا يُقَالُ فِي الصَّبَاحِ وَالْمَسَاءِ وَعِندَ إرَادَةِ النَّوْمِ باب: صبح، شام اور نیند کے وقت کی دعاؤں کا بیان
عَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ كُنَّا قُعُودًا فِي مَسْجِدِ حِمْصَ إِذْ مَرَّ رَجُلٌ فَقَالُوا هَذَا خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَنَهَضْتُ فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَدَاوَلْهُ الرِّجَالُ فِيمَا بَيْنَكُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حِينَ يُمْسِي أَوْ يُصْبِحُ وَفِي لَفْظٍ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ ابو سلام سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مسجد ِ حمص میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک آدمی کا گزر ہوا، لوگوں نے کہا: اس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کی ہے، پس یہ سن کر میں اٹھا اور اس سے سے کہا: مجھے کوئی حدیث بیان کرو، جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو اور تیرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان کوئی واسطہ نہ ہو، اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی صبح کو اور شام کو تین بار یہ ذکر کرتا ہے: رَضِیتُ بِاللّٰہِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِینًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا، (میں اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے نبی ہونے پر راضی ہوں ) تو اللہ تعالیٰ پر حق ہو جاتا ہے کہ وہ اس کو روزِ قیامت راضی کرے۔