حدیث نمبر: 5495
عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ أَنَّهُ لُدِغَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّكَ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّكَ قَالَ سُهَيْلٌ فَكَانَ أَبِي إِذَا لُدِغَ أَحَدٌ مِنَّا يَقُولُ قَالَهَا فَإِنْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ كَأَنَّهُ يَرَى أَنَّهَا لَا تَضُرُّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو صالح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو اسلم کا آدمی بیان کرتا ہے کہ اس کو ڈسا گیا، جب اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو نے شام کو یہ دعا پڑھی ہوتی أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، تو وہ تجھے نقصان نہ دے سکتا۔ سہیل کہتے ہیں: جب ہم میں سے کوئی ڈسا جاتا تو میرے ابو اس سے پوچھتے: کیا وہ دعا پڑھی تھی؟اگر وہ ہاں میں جواب دیتا تو یوں لگتا کہ میرے ابو کا یہ خیال ہوتا کہ یہ اس کو نقصان نہیں دے گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5495
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3898 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15800»