الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ مَا يُقَالُ فِي الصَّبَاحِ وَالْمَسَاءِ وَعِندَ إرَادَةِ النَّوْمِ باب: صبح، شام اور نیند کے وقت کی دعاؤں کا بیان
عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ أَنَّهُ لُدِغَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّكَ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّكَ قَالَ سُهَيْلٌ فَكَانَ أَبِي إِذَا لُدِغَ أَحَدٌ مِنَّا يَقُولُ قَالَهَا فَإِنْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ كَأَنَّهُ يَرَى أَنَّهَا لَا تَضُرُّهُ۔ سیدنا ابو صالح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو اسلم کا آدمی بیان کرتا ہے کہ اس کو ڈسا گیا، جب اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو نے شام کو یہ دعا پڑھی ہوتی أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، تو وہ تجھے نقصان نہ دے سکتا۔ سہیل کہتے ہیں: جب ہم میں سے کوئی ڈسا جاتا تو میرے ابو اس سے پوچھتے: کیا وہ دعا پڑھی تھی؟اگر وہ ہاں میں جواب دیتا تو یوں لگتا کہ میرے ابو کا یہ خیال ہوتا کہ یہ اس کو نقصان نہیں دے گا۔