الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ مَا يُقَالُ فِي الصَّبَاحِ وَالْمَسَاءِ وَعِندَ إرَادَةِ النَّوْمِ باب: صبح، شام اور نیند کے وقت کی دعاؤں کا بیان
عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ قَالَ أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ لَهُ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَلْقَى بَيْنَ يَدَيَّ صَحِيفَةً فَقَالَ هَذَا مَا كَتَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرْتُ فِيهَا فَإِذَا فِيهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي مَا أَقُولُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا بَكْرٍ قُلْ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ۔ ابو راشد حبرانی کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: جو حدیث تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو، وہ مجھے بیان کرو، انھوں نے میرے سامنے ایک صحیفہ رکھا اور کہا: یہ وہ چیز ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے لکھوائی تھی، جب میں نے اس میں دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایسی دعا کی تعلیم دیں، جو میں صبح اور شام کو پڑھوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! یہ دعا پڑھا کرو: اَللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، رَبَّ کُلِّ شَیْئٍ وَمَلِیکَہُ، أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِی وَمِنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ وَشِرْکِہِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِی سُوئً أَوْ أَجُرَّہُ إِلٰی مُسْلِمٍ۔ (اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! غیب اور حاضر کو جاننے والے! ہر چیز کے پروردگار اور اس کے مالک! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے‘ شیطان کے شر اور اس کے شرک سے‘ اس بات سے کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان سے برائی کروں)۔