الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ مَا يُقَالُ فِي الصَّبَاحِ وَالْمَسَاءِ وَعِندَ إرَادَةِ النَّوْمِ باب: صبح، شام اور نیند کے وقت کی دعاؤں کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُولَ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ وَإِذَا أَخَذْتُ مَضْجَعِي مِنَ اللَّيْلِ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكُهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں صبح کے وقت، شام کے وقت اور رات کو بستر پر سوتے وقت یہ کلمات ادا کروں: اَللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ … … وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِی سُوئً أَوْ أَجُرَّہُ إِلٰی مُسْلِمٍ۔(اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! غیب اور حاضر کو جاننے والے! تو ہر چیز کا پروردگار اور مالک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں‘تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے‘ شیطان کے شر اور اس کے شرک سے‘اس بات سے کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان سے برائی کروں)۔