حدیث نمبر: 5484
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ فِي آخِرِ أَمْرِهِ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَرَاكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ قَالَ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ كَانَ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَأَرَى عَلَامَةً فِي أُمَّتِي وَأَمَرَنِي إِذَا رَأَيْتُهَا أَنْ أُسَبِّحَ بِحَمْدِهِ وَأَسْتَغْفِرَهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا فَقَدْ رَأَيْتُهَا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی آخری زندگی میں کثرت سے یہ ذکر کرتے تھے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ، میں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ یہ ذکر بہت کثرت سے کرنے لگ گئے ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میرے ربّ نے مجھے یہ خبر دی تھی کہ میں عنقریب اپنی امت میں ایک علامت دیکھوں گا اور پھر مجھے یہ حکم بھی دیا کہ میں جب اس کو دیکھ لوں تو اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح بیان کروں اور اس سے بخشش طلب کروں، بیشک وہ توبہ قبول کرنے کرنے والا ہے، اور اب میں نے وہ علامت ان آیات کی صورت میں دیکھ لی ہے: {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَأَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِی دِینِ اللّٰہِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ إِنَّہُ کَانَ تَوَّابًا} جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے۔ اور تو لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق آتا دیکھ لے۔ تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ (النصر: ۱۔۳)

وضاحت:
فوائد: … دراصل سورۂ نصر میں یہ بتلایا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا آخری وقت آ گیا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسبیح و تحمید اور استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔ جو لوگ بڑی عمر یا مخصوص بیماری کی وجہ سے موت کو قریب سمجھنے لگ جائیں وہ اس سورت میں دی گئی ہدایت پر عمل کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5484
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 484، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24065 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24566»