الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الاسْتِغْفَارِ وَفَضْلِهِ باب: استغفار اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5482
عَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اغر مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ میرے دل پر بھی غفلت طاری ہو جاتی ہے اور میں ہر روز سو سو بار اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … دل پر طاری ہونے والی غفلت سے مراد کسی عارضے کی بنا پر ذکر کے تسلسل کا منقطع ہو جانا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پاکیزہ دل اس انقطاع کو محسوس کر لیتا تھا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا ازالہ کرتے تھے، کثرت کے ساتھ ذکر کرنے والے کو اس حدیث ِ مبارکہ کا عملی طور پر تجربہ ہوتا ہے، جب عظیم لوگوں کی عبادت کا وقت دوسرے جائز اور مباح امور میں صرف ہو جاتا ہے تو وہ اپنے مزاج میں اس کمی کو محسوس کرتے ہیں اور پھر اس کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔