الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
باب مَا جَاءَ فِي قَوْل لَا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّابِاللَّهِ وَفَضْلِهَا باب: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے ذکر اور اس کی فضیلت کا بیان
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ مَنْ مَعَكَ يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا مُحَمَّدٌ فَقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ مُرْ أُمَّتَكَ فَلْيُكْثِرُوا مِنْ غِرَاسِ الْجَنَّةِ فَإِنَّ تُرْبَتَهَا طَيِّبَةٌ وَأَرْضَهَا وَاسِعَةٌ قَالَ وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسراء (اور معراج) کرایا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزرے، انھوں نے پوچھا: اے جبریل! تیرے ساتھ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہیں، ابراہیم علیہ السلام نے کہا: اپنی امت کو حکم دینا کہ وہ جنت میں زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں، پس بیشک اس کی مٹی پاکیزہ اور زرخیز ہے اور اس کی زمین وسیع ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: جنت کے پودے کیا ہیں؟ انھوں نے کہا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔