حدیث نمبر: 5465
عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي يَا قَبِيصَةُ مَا جَاءَ بِكَ قُلْتُ كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي فَأَتَيْتُكَ لِتُعَلِّمَنِي مَا يَنْفَعُنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ قَالَ يَا قَبِيصَةُ مَا مَرَرْتَ بِحَجَرٍ وَلَا شَجَرٍ وَلَا مَدَرٍ إِلَّا اسْتَغْفَرَ لَكَ يَا قَبِيصَةُ إِذَا صَلَّيْتَ الْفَجْرَ فَقُلْ ثَلَاثًا سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ تُعَافَى مِنَ الْعَمَى وَالْجُذَامِ وَالْفَالِجِ يَا قَبِيصَةُ قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِمَّا عِنْدَكَ وَأَفِضْ عَلَيَّ مِنْ فَضْلِكَ وَانْشُرْ عَلَيَّ رَحْمَتَكَ وَأَنْزِلْ عَلَيَّ مِنْ بَرَكَاتِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: قبیصہ! کیوں آئے ہو؟ میں نے کہا: میری عمر بڑی ہو گئی ہے اور ہڈیاں کمزور پڑ گئی ہیں، اس لیے میں آپ کے پاس آیا ہوں، تاکہ میں آپ مجھے ایسی چیز کی تعلیم دے دیں، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبیصہ! تو جس پتھر، درخت اور کچی اینٹ کے پاس سے گزرا، اس نے تیرے لیے بخشش طلب کی، اے قبیصہ! جب تو نمازِ فجر ادا کر لے تو تین بار یہ کلمہ کہہ: سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِہِ، تجھے اندھے پن، کوڑھ اور فالج سے عافیت مل جائے گی، اے قبیصہ! یہ دعا کیا کرو: اللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ مِمَّا عِنْدَکَ … … وَأَنْزِلْ عَلَیَّ مِنْ بَرَکَاتِکَ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھے سے ان چیز وں کا سوال کرتا ہوں، جو تیرے پاس ہیں، تو مجھ پر اپنا فضل ڈال دے، مجھ پر اپنی رحمت نچھاور کر دے اور مجھ پر اپنی برکات نازل کر دے)۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5465
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن قبيصة، أخرجه الطبراني في الكبير :18/940 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20602 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20878»